حکومت نے سولر پینل مینوفیکچرنگ پالیسی کو حتمی شکل دے دی۔

متبادل توانائی کے ترقیاتی بورڈ نے سولر پینلز اور اس سے منسلک آلات کی تیاری کی پالیسی پر پالیسی پیپر کو حتمی شکل دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق، پالیسی دستاویز پر اسٹیک ہولڈرز سے تفصیلی مشاورت کی گئی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پالیسی پر مشاورت کرنے والوں میں مقامی سولر مینوفیکچررز صوبائی محکمے، صارفین اور دیگر متعلقہ ادارے شامل تھے۔ یہ پالیسی وزیر اعظم کی سربراہی میں قابل تجدید توانائی ٹاسک فورس نے تیار کی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ توانائی کے پیاسے ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں 7000 میگاواٹ کا بڑا فرق ہے۔ پاکستان اس وقت مجموعی طور پر 22,000 میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے، جب کہ اس کی بجلی کی طلب 29,000 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے اور اس فرق کے نتیجے میں ملک کے ہر شعبے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔

حکومتی وژن کے مطابق سولر پینلز اور اس سے منسلک آلات کی مقامی تیاری سے انجینئرز اور ٹیکنیشنز کو ہنر مند ملازمتیں فراہم کرنے کے علاوہ قیمتی غیر ملکی کرنسی کی بچت میں مدد ملے گی۔

الٹرنیٹو انرجی ڈیولپمنٹ بورڈ (AEDB) 2030 تک پورے پاکستان میں تقریباً 9.7GW قابل تجدید توانائی کے پاور جنریشن سسٹم نصب کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ حکومت کی مضبوط حمایت اور پالیسی کا تسلسل اس شعبے میں کاروباری ترقی کی مضبوط ضمانت فراہم کرسکتا ہے

مزید تفصیلات کے لیے ملاحظہ کریں: solectice Engineering

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Contact Us